بنگلورو،4؍جولائی(ایس او نیوز) ریاستی لیجسلیچر اجلاس سے گورنر واجو بھائی والا کے خطبے پر تحریک تشکر آج اسمبلی میں پیش کی گئی۔ اس تحریک کی تائید کرتے ہوئے سینئر جنتادل (ایس) رکن اے ٹی رام سوامی نے کسانوں کے قرضے معاف کرنے حکومت کے فیصلے کی پرزور حمایت کرتے ہوئے کہاکہ ان قرضوں کی معافی سے کسانوں کے سارے مسائل حل ہوجائیں گے، ایسا نہیں ہے لیکن کچھ حد تک راحت ضرور ملے گی۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے کسانوں کے قرضے معاف کرنے کا جو اعلان کیا ہے وہ صرف مسائل کا عارضی حل ہے۔ کسانوں کے تمام تر مشکلات کو دور کرنا کسی کے بس میں نہیں۔اس کے بعد بھی کسانوں کو اپنی فصلوں کے لئے قرضوں کی ضرورت پڑے گی۔ فصلوں کے لئے تائیدی قیمت دینی پڑے گی۔ فصل اچھی ہو تو اس کی فروخت کے لئے بہتر بازار مہیا کرانا ہوگا، اگر قیمتیں گھٹ جائیں تو حکومت کی طرف سے قیمتوں کا تعین کرنے مداخلت کرنی پڑے گی۔ یہ تمام ذمہ داریاں بھی ہیں جن کو نبھانا پڑے گا۔
انہوں نے کہاکہ کسانوں کی کاشت پر جو تائیدی قیمت طے کی جاتی ہے اس کمیٹی میں کسانوں کا نمائندہ ہی نہیں ہے، اس پر توجہ دی جائے۔فصل پر تائیدی قیمتوں کے تعین میں اگر کاشتکارہی شامل نہیں ہوں تو سرکاری افسر کس بنیاد پر قیمت کا تعین کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ کسانوں کے قرضے معاف ہوں ایسا ریاست کا کون سیاست دان نہیں چاہتا اور کون ہے جو قرضوں کو معاف کئے جانے کی مخالفت کررہاہے۔کوئی نہیں خود یڈیورپا کسانوں کے قرضے معاف کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کے وعدے کو بار بار یاد دلانے والے یڈیورپا بھی یہ نہیں چاہتے کہ کسان مقروض رہیں تو پھر حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت بے معنی ہے۔ انہوں نے کہاکہ دیہی علاقوں میں کسانوں کو بہتر معاشی حالات کے ساتھ مقامی صنعتوں کو بڑھاوا دئے جانے سے شہروں کی طرف نقل مکانی کو کافی حد تک روکا جاسکتاہے۔ انہوں کہاکہ دیہی علاقوں میں صحت اور تعلیم کے لئے بہتر انفرااسٹرکچر فراہم نہیں ہوپارہا ہے۔حالانکہ ریاست میں ترقی کی رفتار ملک کی مجموعی ترقی کی رفتار سے زیادہ ہے لیکن ترقی کے یہ ثمرات 60 فیصد آبادی کو نہیں مل رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گورنر کے خطبے میں شہروں کی ترقی کے ساتھ زراعت کے فروغ کے لئے ’’جئے جوان جئے کسان ‘‘ کے نعرے کو مقدم رکھا گیا ہے جوکہ خوش آئند امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی فلاح کے لئے اقدامات کے ساتھ حکومت کو تعلیمی شعبے کے سدھار کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔ شہروں کی ترقی پر اب تک جو توجہ دی گئی ہے اسے برقرار رکھتے ہوئے دیہی علاقوں کے انفرااسٹرکچر کو شہروں کے برابر لانے کا کام بھی ہونا چاہئے۔